حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،کرگل-لداخ/ مرکزی نائب امامِ جمعہ کرگل حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ طالب حسین سبحانی نے احاطۂ حوزہ علمیہ اثنا عشریہ کرگل میں خطبۂ جمعہ کے دوران سخاوت، اعتدال، اسراف سے اجتناب، معرفتِ اہلِ بیتؑ اور حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کی سیرت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اسلامی تعلیمات کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو تقویٰ، اخلاق، سادگی اور دینی ذمہ داریوں کے مطابق استوار کرے۔ انہوں نے معاشرتی رسوم، شادی بیاہ کی تقریبات، فضول خرچی اور حجاب و عفت کے حوالے سے بھی اہم نکات کی جانب توجہ دلائی۔

مولانا شیخ طالب حسین سبحانی نے اپنے پہلے خطبے میں تقوائے الٰہی کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ تقویٰ انسان کو گناہوں سے محفوظ رکھنے اور اس کے اعمال کو رضائے الٰہی کے مطابق ڈھالنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے منقول قول «سَادَةُ النَّاسِ فِي الدُّنْيَا الْأَسْخِيَاءُ، وَفِي الْآخِرَةِ الْأَتْقِيَاءُ» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا میں سخاوت انسان کو عزت و احترام عطا کرتی ہے، جبکہ آخرت میں حقیقی کامیابی کا معیار تقویٰ اور پرہیزگاری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ سخاوت محض مال خرچ کرنے کا نام نہیں، بلکہ ضرورت مندوں کی مدد، غریب خاندانوں کی دستگیری، مریضوں کے علاج میں تعاون اور معاشرے کے کمزور طبقات کی مشکلات کم کرنے کا نام بھی ہے۔ تاہم سخاوت اور اسراف میں فرق کو سمجھنا ضروری ہے؛ اسلام نہ فضول خرچی کی اجازت دیتا ہے اور نہ ضرورت مندوں کی مدد سے گریز کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، بلکہ اعتدال اور ذمہ دارانہ طرزِ زندگی کی تعلیم دیتا ہے۔

شیخ سبحانی نے قرآن مجید کی سورۂ فرقان کی آیت 67 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے خرچ کرنے میں نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ بخل، بلکہ ان کا طرزِ عمل ان دونوں انتہاؤں کے درمیان متوازن ہوتا ہے۔ انہوں نے سورۂ انعام کی آیت 141 میں اسراف سے ممانعت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بے جا استعمال کرنا اور اپنی خواہشات یا معاشرتی دباؤ کے تحت غیر ضروری اخراجات کرنا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔
انہوں نے کرگل کے مقامی معاشرتی تناظر میں شادی بیاہ کی تقریبات میں بڑھتے ہوئے غیر ضروری اخراجات، نمود و نمائش اور کھانے کے ضیاع پر توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات معاشرتی مقابلے اور لوگوں کی تعریف حاصل کرنے کی خواہش میں ضرورت سے زیادہ کھانا تیار کیا جاتا ہے، جو بعد میں ضائع ہو جاتا ہے۔ ایک طرف ایسے خاندان موجود ہیں جنہیں بنیادی غذائی ضروریات پوری کرنے میں دشواری ہوتی ہے، جبکہ دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کو بے قدری سے ضائع کیا جاتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ شادی بیاہ کی تقریبات کو سادگی، وقار اور خوشی کا ذریعہ بنایا جائے، نہ کہ خاندانوں پر مالی بوجھ ڈالنے اور غیر ضروری مقابلے کا وسیلہ۔ بچ جانے والی قابلِ استعمال غذا کو ضائع کرنے کے بجائے محفوظ طریقے سے ضرورت مندوں تک پہنچانے کا انتظام کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح غیر ضروری رسوم اور دکھاوے پر خرچ ہونے والی رقم کا کچھ حصہ غریبوں، یتیموں، مریضوں اور مستحق طلبہ کی مدد کے لیے مختص کیا جائے تو معاشرے میں ہمدردی، بھائی چارے اور سماجی ذمہ داری کے جذبے کو فروغ مل سکتا ہے۔
انہوں نے دینی تعلیمات اور اچھی مقامی روایات کی حفاظت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی رسم یا طریقے کو صرف معاشرتی رواج یا دوسروں کی نقالی کی بنیاد پر اختیار کرنے کے بجائے اسے اسلامی تعلیمات، شرعی احکام، صحت، صفائی اور انسانی وقار کے معیار پر پرکھنا چاہیے۔ ان کے مطابق اسلامی معاشرے کی تعمیر کے لیے ضروری ہے کہ دینی شناخت اور اخلاقی اقدار کو برقرار رکھتے ہوئے زندگی کے ہر شعبے میں اعتدال اختیار کیا جائے۔

خطبۂ دوم میں مولانا شیخ طالب حسین سبحانی نے حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کی ولادتِ باسعادت کی مناسبت سے محبانِ اہلِ بیت علیہم السلام کو مبارک باد پیش کی اور آپؑ کی علمی، اخلاقی اور روحانی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی زندگی علم، عبادت، حیا، شجاعت، صبر اور استقامت کا روشن نمونہ ہے، جس سے مرد و خواتین سمیت پوری انسانیت رہنمائی حاصل کر سکتی ہے۔
انہوں نے امام زین العابدین حضرت امام سجاد علیہ السلام سے منقول قول «أَنْتِ بِحَمْدِ اللّٰهِ عَالِمَةٌ غَيْرُ مُعَلَّمَةٍ، فَهِمَةٌ غَيْرُ مُفَهَّمَةٍ» کا حوالہ دیتے ہوئے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے بلند علمی مقام اور غیر معمولی بصیرت کو اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام میں علم، کردار اور تقویٰ کے اعلیٰ مراتب خواتین کے لیے بھی اسی طرح اہم ہیں اور حضرت زینبؑ کی شخصیت اس حقیقت کی نمایاں مثال ہے۔
واقعۂ کربلا کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امام حسین علیہ السلام اور آپؑ کے وفادار ساتھیوں کی شہادت کے بعد حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے جس صبر، شجاعت اور بصیرت کا مظاہرہ کیا، وہ تاریخِ اسلام کا ایک عظیم باب ہے۔ کوفہ اور شام میں آپؑ کے خطبات اور حق گوئی نے پیغامِ کربلا کو زندہ رکھنے اور ظلم کے مقابلے میں حق و حقیقت کو واضح کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت زینبؑ کا صبر کمزوری یا بے عملی کا نام نہیں تھا، بلکہ اللہ تعالیٰ پر اعتماد، حق پر ثابت قدمی اور دینی ذمہ داریوں کی ادائیگی کی اعلیٰ مثال تھا۔

انہوں نے معرفتِ اہلِ بیت علیہم السلام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اہلِ بیتؑ سے محبت صرف عقیدت اور زبانی اظہار تک محدود نہیں رہنی چاہیے، بلکہ ان کی تعلیمات کو عملی زندگی میں اپنانا حقیقی محبت کا تقاضا ہے۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کی سیرت ہمیں علم، تقویٰ، عبادت، پاکیزگی، حق گوئی اور معاشرتی ذمہ داری کا درس دیتی ہے۔
حجاب، عفت اور معاشرتی اخلاق کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا سبحانی نے کہا کہ حجاب اسلامی تعلیمات کا اہم حصہ ہے، تاہم عفت و حیا کی ذمہ داری صرف خواتین تک محدود نہیں، بلکہ مردوں کو بھی اپنی نگاہ، گفتگو، لباس اور رویّے میں شرعی حدود کا خیال رکھنا چاہیے۔ انہوں نے شادی بیاہ کی تقریبات میں محرم و نامحرم کے اختلاط اور حجاب کے حوالے سے بے احتیاطی پر توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ خوشی کے مواقع پر بھی دینی اصولوں اور شرعی احکام کی رعایت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ بعض معاشرتی رسومات میں قرآن مجید کی ظاہری علامتوں اور تعظیم پر توجہ دی جاتی ہے، لیکن اس کی تعلیمات پر عمل کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ قرآن مجید کی حقیقی تعظیم اسی وقت ممکن ہے جب اس کے احکام کو زندگی میں نافذ کیا جائے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ شادی بیاہ سمیت تمام معاشرتی معاملات میں دینی تعلیمات کو محض رسمی اظہار کے بجائے عملی رہنمائی کا معیار بنایا جائے۔
خطیبِ جمعہ کے اختتام پر زور دیا کہ معاشرے میں سادگی، سماجی ہمدردی، حجاب، عفت، علم اور تقویٰ کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے مؤمنین و مؤمنات پر زور دیا کہ وہ اہلِ بیت علیہم السلام کی سیرت سے عملی رہنمائی حاصل کریں، نئی نسل کی دینی و اخلاقی تربیت پر توجہ دیں اور اپنی معاشرتی زندگی کو اسلامی اقدار کے مطابق بہتر بنانے میں کردار ادا کریں۔
آخر میں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مؤمنین و مؤمنات کو اسراف، فضول خرچی اور غیر اخلاقی اعمال سے محفوظ رکھے، معاشرے میں اتحاد، محبت اور تقویٰ کو فروغ دے، بیماروں کو شفا اور پریشان حال افراد کو آسودگی عطا فرمائے، حوزاتِ علمیہ اور علمائے کرام کی حفاظت فرمائے اور امامِ زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور میں تعجیل فرمائے۔










آپ کا تبصرہ